کسی شخص کے وای فایWi-Fi) (کواس کی اجازت کے بغیر استعمال کرسکتے ہیں یانہیں؟


*(سوال نمبر:38)*
 سوال:
کسی شخص کے وای فایWi-Fi) (کواس کی اجازت کے بغیر استعمال کرسکتے ہیں یانہیں؟
*جواب*
کسی شخص کی کسی چیز کو اس کی رضامندی اور اجازت کے بغیر استعمال کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔اس اعتبارسے کسی کے واے فاےWi-Fi  کو بھی اس کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا درست نہیں ہے اس لئے کہ اس صورت میں دوسرے کے حق پر قبضہ کرنا لازم آتا ہے.
فصل في الغصب
وهو الاستيلاء على حق الغير على طريق الظلم ويدخل في الحق الاختصاصات والمنافع
(نهاية الزين :٢٦٤/١)
وكذلك الاختصاصات بالحقوق، فالاختيار: أنه الاستيلاء على حق الغير بغير حق. والله أعلم.
وقد تظاهرت نصوص الكتاب والسنة وإجماع الأمة على تحريم الغصب،
(روضة الطالبين :٣/٥)
وفي الحديث فوائد منها تحريم أخذ مال الإنسان بغير إذنه والأكل منه والتصرف فيه وأنه لا فرق بين اللبن وغيره وسواء المحتاج وغيره وسواء المحتاج وغيره
(شرح النووي على مسلم :٢٩/١٢)
في الحديث النهي عن أن يأخذ المسلم للمسلم شيئا إلا بإذنه
(فتح الباري :٨٩/٥)
*اجابہ*: مفتی محمد اسجد ملپا
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟