تدفین کے بعد میت کے سراہنے سورةالبقرہ کا پہلا رکوع اور پیر کے پاس آخری رکوع پڑھنا


  *(سوال نمبر:٢٣)*
           بعض لوگ کہتے ہیں کہ تدفین کے بعد میت کے سراہنے سورةالبقرہ کا پہلا رکوع اور پیر کے پاس آخری رکوع پڑھنا مستحب ہے اس کی کیا دلیل ہے ؟
*الجواب :*
            حضرت علاء ابن لجاج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ جب تم مجھے میرے قبر میں ڈالو تو مجھے لحد میں رکھو اور تم کہو  (باسم الله وعلى سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم ) اور مجھ پر مٹی ڈالو اور میرے سر کے پاس سورہ بقرہ کا پہلا  اور آخری رکوع پڑھو اسلئے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اس کو پسند کرتے تھے ۔ (السنن الکبری 4/93)
         مذکورہ روایت سے پتہ چلا کہ تدفین کے بعد میت کے سراہنے سورہ بقرہ کا پہلا اور آخری رکوع پڑھنا مستحب ہے   اور یہ حدیث موقوف حسن ہے ۔ اور امام نووی کتاب الاذکار میں امام شافعی اور اصحاب کا قول نقل کرتے ہیں کہ تدفین کے بعد قرآن کا کچھ حصہ پڑھنا مستحب ہے اگر مکمل قرآن پڑھے تو یہ زیادہ بہتر ہے۔
===================
قال الشافعى والاصحاب: يستحب أن يقرؤوا عنده شيئا من القرأن  قالوا :فإن ختموا القرأن كله كان حسنا. (الأذكار۔ 114)
        يستحب أن يمكث على القبر بعد الدفن ساعة يدعو للميت ويستغفرله نص عليه الشافعي واتفق عليه الأصحاب قالوا ويستحب أن يقرأ عنده شيء من القرأن وإن ختموا القرأن كان افضل .......
وروى البيهقي بإسناده ان بن عمر رضي الله عنهما استحب قراءة أول البقره وأخرها عند القبر والله أعلم.
 (المجموع 5/254)     
🖌 *اجابہ*: مولوی اسماعیل مہالدار
       ------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟