اگر کوئ شخص اپنی ساس(بیوی کی ماں)کے ساتھ زنا کرے یا شہوت کے ساتھ اس کے فرج سے ملاعبت کرے تو حرمت مصاھرت(یعنی بیوی اس پر حرام ہوگی یا نہیں اس سلسلہ میں)کیا حکم ہے؟


*(سوال نمبر:94)*
 سوال:
اگر کوئ شخص اپنی ساس(بیوی کی ماں)کے ساتھ زنا کرے یا شہوت کے ساتھ اس کے فرج سے ملاعبت کرے تو حرمت مصاھرت(یعنی بیوی اس پر حرام ہوگی یا نہیں اس سلسلہ میں)کیا حکم ہے؟
*جواب*
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے"لایحرم الحرام الحلال"(1)فی نفسہ حرام شئ کسی حلال شئ کو حرام کرنے کی طاقت نہیں رکھتی.چناچہ زنا ایک حرام عمل ہے اور عقد جائز اور مسنون عمل ہے لہذا ساس سے زنا کی بنا پر اس کی بیٹی سے کیا ہوا نکاح باطل نہیں ہوگا اور مصاہرت ثابت نہیں ہوگی اس لئے کہ مصاہرت اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب نسب ثابت ہوتا ہے چنانچہ اگر کوئ شخص اپنی ساس کو شہوت کے ساتھ چھوئے  یا اس کے فرج کو چھوئے یا اس سے زنا کرے تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوگی-

چنانچہ امام عمرانی فرماتے ہیں:
اذا زني الرجل بامرأة لم يثبت بهذا الزنا تحريم المصاهرة...... وكذلك اذا قبلها بشهوة حراما او لمسها او نظر الي فرجها بشهوة حراما(2)

امام نووي فرماتے ہیں:
ان الزنا لا يثبت حرمة المصاهرة(3)
سنن الكبري:13965
البيان:225/9
المجموع:219/16
الحاوي الكبير:430/3

*اجابہ*: مفتی عاقب کوکاٹے حسینی ۔مولوی محمدرفاعی مدراسی .مولوی سعودندوی (کنڈلور)
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟