اگر کوئی شخص فرض نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ تلاوت کرنا بھول جائےتواس صورت میں سجدہ سہو کرنے کا کیا حکم ہے ؟


  *(سوال نمبر:92)*
 سوال:
اگر کوئی شخص فرض نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورہ تلاوت کرنا بھول جائےتواس صورت میں  سجدہ سہو کرنے کا کیا حکم ہے ؟
*جواب*
نماز میں بعض چیزوں کا کرنا فرض اور بعض سنن ابعاض میں داخل ہیں لہذااگر کوئ شخص فرض کو ترک کرے تو نماز باطل ہوجاتی ہے اور سنت ابعاض کو ترک کرے تو سجدہ سہو کرناسنت ہے ۔اور بعض چیزوں کا تعلق سنن ھیئات (تعوذ,دعاء افتتاح,تکبیرات انتقالی,تسبیحات,اور سورفاتحہ کے بعد کوئ سورۃ تلاوت کرنا وغیرہ)سے ہوتا ہے ان کے ترک کرنے پر سجد سہو لازم نہیں ہوتااس لئے  کہ اس طرح کی سنتوں کے ترک پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سجدہ سہو ثابت نہیں ہے . لہذا فاتحہ کے بعد کوئ سورۃ تلاوت کرنا بھول جائے تو  اس پر سجدہ سھو مشروع نہیں ہے۔

چنانچہ امام نووی فرماتے ہیں:

من السنن كالتعوذ ودعاء الافتتاح ورفع اليدين والتكبيرات والتسبيحات والدعوات والجهر والإسرار والتورك والافتراش والسورة بعد الفاتحة ووضع اليدين على الركبتين وتكبيرات العيد الزائدة وسائر الهيئات المسنونات غير الأبعاض فلا يسجد لها سواء تركها عمدا أو سهوا لأنه لم ينقل عن رسول الله صلى الله عليه وسلم السجود لشئ منها والسجود زيادة في الصلاة فلا يجوز إلا بتوقيف.

1)المجموع:126/4
*مغنی المحتاج:589/1
*النجم الوھاج:540/2

*اجابہ*: مفتی حسنین کھوت
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟