آفس میں نماز کے لئے اذان دینے کا حکم


  *(سوال نمبر:22)*
سوال :
مغرب کی نماز کا وقت شروع ہوتے ہی آفس میں دو تین لوگ مل کر نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ کیا نماز کے لئے أذان دینا چاہیے یا بغیر أذان کے جماعت بنا سکتے ہیں؟
*جواب*
اگر کسی آفس یا کمپنی میں چند لوگ مل کرنماز کا وقت شروع ہوتے ہی جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا چاہتے ہوں تو ان کے لئے اذان دینا مندوب ہے ،اگر چہ ان لوگوں کو دوسری کوئی اذان سنائی دیتی ہو.
قال الرافعي: الذي قطع به الجمهور (ندبه) أي الأذان (للمنفرد) في بلد أو صحراء إذا أراد الصلاة للحديث الآتي، والقديم لا يندب له لانتفاء المعنى المقصود منه: وهو الإعلام، وظاهر إطلاقه تبعا للمحرر مشروعية أذان المنفرد وإن بلغه أذان غيره، وهو الأصح
مغني المحتاج 1/319
   *اجابہ*: مفتی اسجدکردمے
       ------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟