عورت کے لیے بال کاٹنے کا کیا حکم ہے؟
*(سوال نمبر:129)*
عورت کے لیے بال کاٹنے کا کیا حکم ہے؟
*جواب:*
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اپنے بال کتراتی تھیں. (1)حدیث کے اس آخری
جزء کی بناء امام نووی فرماتے ہیں کہ عورتوں کے لیے بالوں کو چھوٹا کرنا جائز ہے اسی
طرح ایک فقہی قاعدہ ہے "کہ چیزوں میں اصل اباحت ہے یہاں تک کہ حرمت پر کوئی نص
دلالت کرے"(2) اور علماء فرماتے ہیں کہ عورتوں کے بال کاٹنے کے سلسلے میں شرعیت
میں ممانعت وارد نہیں ہے لہذا کوئی عورت شوہر کے لیے مزین ہونا چاہتی ہو یا شوہر کی
محبت حاصل کرنا چاہتی ہو یا لمبے بال کی وجہ سے دشواری ہورہی ہو یا کوئی معقول عذر
ہو تو ایسی عورت کے لیے اپنے بالوں کو کاٹنا جائز ہے لیکن اگر بال اس قدر باریک کرے
کہ مردوں کے مشابہ ہوجائے یا فیشن کے طور پر کافرہ عورتوں کے مشابہ کرائے تو پھر بالوں
کو کاٹنا حرام ہوگا اس لیے کہ "اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عورتوں
پر لعنت فرمائی جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے"(3 )اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا "جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انھیں میں سے ہوگا.(4
)
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وفيه دليل على جواز تخفيف الشعور للنساء. (5)
إذا كان غرض المرأة التزين للزوج والتقرب إليه، أو كان غرضها
التخفف من كلفة العناية بالشعر الطويل والعناء في سبيل ذلك، أو غير ذلك من الأغراض
المعقولة المباحة، فلا حرج عليها في ذلك على القول الصحيح من كلام العلماء لأن الأصل
في العادات الاباحة حتى يرد دليل على التحريم، وليس في الشريعة ما يدل على المنع من
قص شعر المرأة. (6)
(1)مسلم :320
2)الأشباه والنظائر :90
(3)بخاری :5885
(4)ابوداؤد :4031
(5)شرح مسلم :7/2
(6)www.islamqa.info
*اجابہ*:مفتی حسنین کھوت۔مفتی سعودمجاورندوی
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment