گروی زیورات پر زکوۃ کا حکم
*(سوال
نمبر:42)*
سوال:
ایک شخص نے اپنے زیورات ایک دکاندار کے یہاں گروی رکھ کر
کچھ پیسا بطور قرض لیا ہے اور اس پیسے سے اپنا ماقبل کا قرض(اس کے ذمہ کسی اور کا قرض
تھا) ادا کر رہا ہے اور ابھی تک قرض اس کے
ذمہ باقی ہے،تو ایسی صورت میں اس گروی رکھے ہوئے زیورات پر کیا زکوۃ
واجب ہوگی یا نہیں ؟
اس شخص نے دو سال سے زکوۃ ادا نہیں کی ہے !
*جواب*
جن زیورات کو استعمال کی نیت سے بنایا جاتا ہے ان پر زکوۃ
واجب نہیں ہے جب تک کہ وہ عرفاً اسراف میں
شمار نہ کئے جاتے ہوں۔چاہے انھیں گروی رکھے جائیں۔اور اگر استعمال کی نیت کے علاوہ
پونجی جمع کرنے کی نیت سے بنائے گئے ہیں تو زکوۃ واجب ہوگی ۔لہذاجس شخص نے جس دکاندار
کے پاس زیورات گروی رکھ کر قرض لیا ہے اگر وہ زیورات استعمال کی نیت سے بنائے ہوئے
ہیں توزکوۃ واجب نہیں ہوگی اور اگر پونجی کی نیت سے بنائے گئے ہیں تو زکوۃ واجب ہوگی۔اگر
فی الوقت زکوۃ ادا کرنا دشوار ہے تو زکوۃ اس کے ذمہ میں باقی رہے گی اور ممکن ہونے
پر اس کی زکاۃ ادا کرنا ضروری ہے.
ولا زكاة في حلي مباح) كالحلي من ذهب أو فضة للبس امرأة
(ولو) اتخذه بلا قصد أو قصد لإعارة أو (لإجارة) لها إلا إن أسرفت كخلخال وزن مجموع
فردتيه مائتا مثقال مثلا فلا يحل لها وتجب زكاته.
(نهاية الزين :١٧٠/١)
إذا ضل ماله أو غصب أو سرق وتعذر انتزاعه أو أودعه فجحد
أو وقع في بحر ففي وجوب الزكاة أربعة طرق (أصحها وأشهرها) فيه قولان (أصحهما) وهو الجديد
وجوبها
المجموع :٣٤١/٥
🖌 *اجابہ*: مفتی محمد اسجد ملپا
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment