کسی غیر مسلم کی میت کا دیدار اور مردہ کے ساتھ شمشان جانے کا کیا حکم ہے؟
*(سوال نمبر:81)*
سوال:
کسی غیر مسلم کی میت کا دیدار اور مردہ کے ساتھ شمشان جانے
کا کیا حکم ہے؟
*جواب*
حضرت علیؓ
فرماتے ہیں کہ( جب میرے والدابوطالب کاحالت
کفرمیں انتقال ہوا)تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ کے گمراہ چچا کا انتقال ہوگیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم
نے فرمایا کہ جاؤ اپنے والد کی تدفین کرو مجهے کچھ نہ کہو یہاں تک کہ تم واپس آجاو پهر میں گیا اور میں نے ان کی تدفین کی ،جب میں لوٹاتومجهے غسل کاحکم دیا اور دعا دی۔
(سنن
ابی داؤد 32144)
مذکورہ حدیث کی روشنی میں
فقہاء کرام نے مطلقاً جنازے میں شرکت اورتدفین کی گنجائش نقل کی ہے.موجودہ زمانہ میں چوں کہ کفارکے
یہاں تدفین کاتصورنہیں ہے. بلکہ جلانے کاتصورہے اس لیے شمشان
جانے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ یہ شریعت مطهرہ کے متصادم ہے.اس لئےاحتیاط برتناضروری
ہے۔
في غسل الكافر
ذكرنا أن مذهبنا أن للمسلم غسله ودفنه واتباع جنازته
(المجموع 5 / 120)
(ﻭﺃﻣﺎ)
اﻟﺼﻼﺓ ﻋﻠﻰ اﻟﻜﺎﻓﺮ ﻭاﻟﺪﻋﺎء ﻟﻪ ﺑﺎﻟﻤﻐﻔﺮﺓ ﻓﺤﺮاﻡ ﺑﻨﺺ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻭاﻹﺟﻤﺎﻉ ﻭﻗﺪ ﺫﻛﺮ اﻟﻤﺼﻨﻒ ﻣﺴﺄﻟﺔ
اﻟﺼﻼﺓ ﻓﻲ ﺁﺧﺮ ﺑﺎﺏ اﻟﺼﻼﺓ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﻴﺖ ﻗﺎﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ ﻓﻲ ﻣﺨﺘﺼﺮ اﻟﻤﺰﻧﻲ ﻭاﻷﺻﺤﺎﺏ ﻭﻳﺠﻮﺯ ﻟﻠﻤﺴﻠﻢ
اﺗﺒﺎﻉ ﺟﻨﺎﺯﺓ ﻗﺮﻳﺒﻪ اﻟﻜﺎﻓﺮ
ﻭﺃﻣﺎ ﺯﻳﺎﺭﺓ ﻗﺒﺮﻩ (ﻓﺎﻟﺼﻮاﺏ) ﺟﻮاﺯﻫﺎ ﻭﺑﻪ ﻗﻄﻊ اﻻ ﻛﺜﺮﻭﻥ..
المجموع 144/5
🖌 *اجابہ*: مفتی اطہرحدادی۔مفتی مزمل دیوڑے۔
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment