مقروض کے لئے قربانی کرنابہترہے یاقرض کی ادائیگی سے فارغ ہوناافضل ہے؟


*(سوال نمبر:54)*
 سوال:
مقروض کے لئے قربانی کرنابہترہے یاقرض کی ادائیگی سے فارغ ہونا افضل ہے؟
*جواب*
قرض کی ادائیگی ایک واجب عمل ہے اور قربانی ایک مسنون عمل ہے۔لہذا اگرکسی پر قرض ہو اور قرض کی ادائیگی کا وقت ہوگیا ہو نیز اس کے پاس موجودہ رقم اگر قربانی کے لئے خرچ کرے تو قرض کی ادائیگی کے لئے دوسری رقم موجود نہ ہو تو اس صورت میں قربانی کرنا درست نہیں ہے ۔بلکہ اس رقم سے قرض ادا کرنا ضروری ہے۔ ہاں اگرقرض کی ادائیگی کا کوئی معقول نظم موجود ہویاقرض کی ادائیگی کے وقت قرض اداکرنا ممکن ہو تو پھر وہ اس رقم سے قربانی کرے تو کوئی حرج نہیں بلکہ اس کے لئے سنت ہے کہ قربانی کرے اورجلدہی  قرض کی ادائیگی سے فارغ ہوجائے۔

(ﻭﺗﺤﺮﻡ) اﻟﺼﺪﻗﺔ (ﺑﻤﺎ ﻳﺤﺘﺎﺟﻪ) ﻣﻦ ﻧﻔﻘﺔ ﻭﻏﻴﺮﻫﺎ (ﻟﻤﻤﻮﻧﻪ) ﻣﻦ ﻧﻔﺴﻪ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﻫﻮ ﺃﻋﻢ ﻣﻦ ﻗﻮﻟﻪ ﻟﻨﻔﻘﺔ ﻣﻦ ﺗﻠﺰﻣﻪ ﻧﻔﻘﺘﻪ (ﺃﻭ ﻟﺪﻳﻦ ﻻ ﻳﻈﻦ ﻟﻪ ﻭﻓﺎء) ﻟﻮ ﺗﺼﺪﻕ ﺑﻪ؛ ﻷﻥ اﻟﻮاﺟﺐ ﻣﻘﺪﻡ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺴﻨﻮﻥ، ﻓﺈﻥ ﻇﻦ ﻭﻓﺎءﻩ ﻣﻦ ﺟﻬﺔ ﺃﺧﺮﻯ ﻓﻼ ﺑﺄﺱ ﺑﺎﻟﺘﺼﺪﻕ ﺑﻪ
(حاشية الجمل 4/113)
ﺃﻣﺎ ﺇﺫا ﻇﻦ ﻭﻓﺎءﻫ ﻣﻦ ﺟﻬﺔ ﻇﺎﻫﺮﺓ ﻭﻟﻮ ﻋﻨﺪ ﺣﻠﻮﻝ اﻟﻤﺆﺟﻞ .. ﻓﻼ ﺑﺄﺱ ﺑﺎﻟﺘﺼﺪﻕ، ﺑﻞ ﻗﺪ ﻳﺴﻦ
( شرح المقدمة الحضرمية 1/538)
*اجابہ*: مفتی مزمل دیوڑے
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟