اگر عشاء کی نماز چھوٹ جائے تو کیا تراویح کی نماز میں عشاء کی نیت سے کھڑے ہوسکتے ہیں؟

 سوال نمبر:139)*
سوال :
اگر عشاء کی نماز چھوٹ جائے تو کیا تراویح کی نماز میں عشاء کی نیت سے کھڑے ہوسکتے ہیں؟
*جواب*
اگرکسی کی عشاء کی جماعت فوت ہوجایے توافضل یہ ہے کہ وہ الگ سے پڑھ لے اور تراویح میں شامل ہوجایے لیکن اگر  کوئی شخص تراویح کی نماز میں تراویح کے امام کی اقتدا میں عشاء  کی نماز پڑھے تو اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے، اور جب دو رکعت کے بعد امام سلام پھیرے تو وہ شخص بقیہ دو رکعت کے لیے کھڑا ہوگا، اولی یہ ہے کہ باقی دورکعت منفرد ہی ادا کرے لیکن اگروہ باقی دورکعت بھی تراویح  کے امام کے ساتھ اداکرناچاہے توامام کی سلام کے بعد کھڑا ہوکر انتظار کرے  اورجب امام تراویح کی دورکعت شروع کرے  تو دل میں اقتداء کی نیت کرکے باقی دورکعت امام کے ساتھ مکمل کرلے۔البتہ تراویح کی یہ چاررکعت بعدمیں اداکرلے۔

وَتَصِحُّ صَلَاةُ الْعِشَاءِ خَلْفَ مَنْ يُصَلِّي التَّرَاوِيحَ كَمَا لَوْ اقْتَدَى فِي الظُّهْرِ بِالصُّبْحِ. فَإِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ قَامَ إلَى بَاقِي صَلَاتِهِ وَالْأَوْلَى أَنْ يُتِمَّهَا مُنْفَرِدًا، فَإِنْ اقْتَدَى بِهِ ثَانِيًا فِي رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ مِنْ التَّرَاوِيحِ جَازَ كَمُنْفَرِدٍ اقْتَدَى فِي أَثْنَاءِ صَلَاتِهِ بِغَيْرِهِ.١

وَتَصِحُّ الْعِشَاءُ خَلْفَ مَنْ يُصَلِّي التَّرَاوِيحَ إلَخْ) تَحْصُلُ لَهُ فَضِيلَةُ الْجَمَاعَةِ بِصَلَاتِهِ الْعِشَاءَ، أَوْ نَحْوَهَا خَلْفَ التَّرَاوِيحِ وَعَكْسُهُ وَبِصَلَاةِ الصُّبْحِ، أَوْ نَحْوِهَا ٢

وَلَوْ صَلَّى الْعِشَاءَ خَلْفَ التَّرَاوِيحِ جَازَ فَإِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ قَامَ إلَى رَكْعَتَيْهِ الْبَاقِيَتَيْنِ وَالْأَوْلَى أَنْ يُتِمَّهَا مُنْفَرِدًا فَلَوْ قَامَ الْإِمَامُ إلَى أُخْرَيَيْنِ مِنْ التَّرَاوِيحِ فَنَوَى الِاقْتِدَاءَ بِهِ ثَانِيًا فِي رَكْعَتَيْهِ فَفِي جَوَازِهِ الْقَوْلَانِ فِيمَنْ أَحْرَمَ مُنْفَرِدًا ثُمَّ نَوَى الِاقْتِدَاءَ الْأَصَحُّ الصِّحَّةُ٣

(ﺗﺼﺢ ﻗﺪﻭﺓ اﻟﻤﺆﺩﻱ ﺑﺎﻟﻘﺎﺿﻲ، ﻭاﻟﻤﻔﺘﺮﺽ ﺑﺎﻟﻤﻨﺘﻔﻞ ﻭﻓﻲ اﻟﻈﻬﺮ ﺑﺎﻟﻌﺼﺮ ﻭﺑﺎﻟﻌﻜﻮﺱ) ﺃﻱ ﺑﻌﻜﺲ ﻛﻞ ﻣﻤﺎ ﺫﻛﺮ ﻧﻈﺮا ﻻﺗﻔﺎﻕ اﻟﻔﻌﻞ ﻓﻲ اﻟﺼﻼﺗﻴﻦ، ﻭﺇﻥ ﺗﺨﺎﻟﻔﺖ اﻟﻨﻴﺔ، *ﻭاﻻﻧﻔﺮاﺩ ﻫﻨﺎ ﺃﻓﻀﻞ، ﻭﻋﺒﺮ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﺑـ'ﺄﻭﻟﻰ' ﺧﺮﻭﺟﺎ ﻣﻦ اﻟﺨﻼﻑ*


١) تحفة المحتاج.            ٣٣٥/٢
٢) اسني المطالب.           ٢٢٧/١
٣) المجموع                  ٢٧٠/٤
* غاية البيان.               ١١٤/١
 ٤)تحفة المحتاج:.       ٢/٢٣٢
 *:مفتي فوادپٹیل۔مفتی عبدالرحیم کیرلوی مفتی ریاض الرحمن ندوی بھٹکلی*
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟