عیدالفطر میں تکبیرات کب سے کب تک پڑھنا ہے اور عید کی نماز کے بعد تکبیر پڑھنے کا کیا حکم ہے؟


*(سوال نمبر:48)*
 سوال:
عیدالفطر میں تکبیرات کب سے کب تک پڑھنا ہے اور عید کی نماز کے بعد تکبیر پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
*جواب*
عیدالفطر میں رمضان کے آخری دن کا سورج غروب ہونے کے بعد تکبیر کاوقت شروع ہوتا ہے اور عید کی نماز شروع ہونے تک باقی رہتا ہے۔لہذا عیدکی نماز کے بعد تکبیر مسنون ومشروع نہیں ہے۔نیز ان تکبیرات کو مذکورہ پورے وقت میں ہر جگہ بازار، مساجد اور گھر وغیرہ میں  پڑھنا مسنون ہے۔البتہ اس وقت پڑھی جانے والی  نمازوں کے فورا بعد تکبیرات پڑھنے کے بجائے تسبیحات اور دعا سے فارغ ہوکر ان تکبیرات کو پڑھنا مسنون ہے۔
فالمرسل مشروع في العيدين جميعا، وأول وقته في العيدين بغروب الشمس ليلة العيد، وفي آخر وقته طريقان. أصحهما: على ثلاثة أقوال. أظهرها: يكبرون إلى أن يحرم الإمام بصلاة العيد.(روضة الطالبين :٧٩/٢)
ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"ﻭﻳﺴﻤﻰ ﻫﺬا اﻟﺘﻜﺒﻴﺮ اﻟﻤﺮﺳﻞ ﻭاﻟﻤﻄﻠﻖ ﻷﻧﻪ ﻻ ﻳﺘﻘﻴﺪ ﺑﺼﻼﺓ ﻭﻻ ﺑﻐﻴﺮﻫﺎ *ﻭﻳﺴﻦ ﺗﺄﺧﻴﺮﻩ ﻋﻦ أذكارﻫﺎ ﺑﺨﻼﻑ اﻟﻤﻘﻴﺪ اﻵﺗﻲ*"(تحفة المحتاج : 51/3)
🖌 *اجابہ*: مفتی مزمل دیوڑے۔مفتی عبدالرحیم کیرلوی
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟