اگر کوئی شخص ایک رکعت تراویح پڑھ کر سلام پھیر دے تو تراویح کا کیا حکم ہے؟
سوال نمبر:141)*
سوال:
اگر کوئی شخص ایک رکعت تراویح پڑھ کر سلام پھیر دے تو تراویح
کا کیا حکم ہے؟
*جواب*
حضرت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ
عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور
دو رکعت کے بعد سلام پھیر دیاجبکہ وہ ظہر یا
عصر کی نماز تہی تو ہم میں سے ایک صحابی جن
کا لقب ذو الیدین تھا انہوں نے اللہ کے نبی
صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت فرمایا کہ نماز میں قصر کیوں کیا گیا حضور صلی اللہ علیہ
وسلم نے صحابہ سے دریافت کیا کہ کیا معاملہ ایسا ہی ہے جیسا ہے ذوالیدین نے کہا ہاں؟ صحابہ نے نے فرمایا جی ہاں تو حضور دوبارہ مصلی
پر کہڑے ہوئے اور باقی نماز مکمل کی اور سجدہ سہو کیا(1).اس حدیث
سے استدلال کرتے ہوئے فقہاء نے لکھا ہے ہے
کہ اگر کوئی شخص بھول دورکعتی نمازمیں ایک رکعت پریاچاررکعتی نمازمیں دورکعت یاتین
رکعت پرسلام پھیرے اورسلام کے بعدزیادہ فاضلہ نہ ہو ا اورنماز کی مصلحت کے علاوہ کوئی
اور بات نہ کی ہو تو ایسی صورت میں پہلی نماز
پر بنا کرتے ہوئے باقی نماز مکمل کرنے کی اجازت ہے اس کے برخلاف اگر طویل فصل ہو جائے ہے یا عمدا رکعت چھوڑ دیں تو اس کی نماز باطل ہوگی اور دوبارہ ادا اعادہ کرنا ہوگا.لہذاتراویح کی ایک
رکعت پراگرسلام پھیردی جائے اورفاصلہ طویل نہ ہوتوبقیہ صرف ایک رکعت اداکرے گااوراس
صورت میں سلام سے پہلے سجدہ سہوکرنامستحب ہے۔اوراگرفاصلہ زیادہ ہواہے تواس ایک رکعت
کااعتبارنہیں ہوگااوردورکعت دوبارہ پڑھناضروری ہوگا۔
چنانچہ علامہ ابن حجر ہیتمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولو سلم وقد نسي ركنا فأحرم فورا بأخرى لم تنعقد لأنه في الأولى
ثم إن ذكرقبل طول فصل بين السلام وتيقن الترك ولا نظر هنا لتحرمه بالثانية خلافا لمن
وهم فيه بنى على الأول، وإن تخلل كلام يسير أو استدبر القبلة أو بعد طوله استأنفها
لبطلانها به مع السلام بينهما وإذا بنى حسب له ما قرأه(2)
إذَا سَلَّمَ
مِنْ صَلَاتِهِ ثُمَّ تَيَقَّنَ أَنَّهُ تَرَكَ رَكْعَةً أَوْ رَكْعَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
أَوْ أَنَّهُ تَرَكَ رُكُوعًا أَوْ سُجُودًا أَوْ غَيْرَهُمَا مِنْ الْأَرْكَانِ سِوَى
النِّيَّةِ وَتَكْبِيرَةِ الْإِحْرَامِ فَإِنْ ذَكَرَ السَّهْوَ قَبْلَ طُولِ الْفَصْلِ
لَزِمَهُ الْبِنَاءُ عَلَى صَلَاتِهِ فَيَأْتِي بِالْبَاقِي وَيَسْجُدُ لِلسَّهْوِ
وَإِنْ ذَكَرَ بَعْدَ طُولِ الْفَصْلِ لَزِمَهُ اسْتِئْنَافُ الصَّلَاةِ هَكَذَا قَالَهُ
الْمُصَنِّفُ هُنَا وَنَصَّ عَلَيْهِ الشَّافِعِيُّ فِي الْأُمِّ وَالْبُوَيْطِيُّ
وَصَرَّحَ بِهِ الْأَصْحَابُ فِي جَمِيعِ الطُّرُقِ(3)
(1)صحیح بخاری,باب تشبیک الاصابع فی المسجد وغیرہ:482
(2)تحفۃ المحتاج:191/2
(3)المجموع:113/4
(4)اسنی المطالب:195/1
*✒️:مفتي خالدخان حسینی۔مفتی سعودمجاورندوی*
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment