شوہر کے لئے بیوی کے موبائل میں چہان بین کرنے کا کیا حکم ہے ؟
*(سوال نمبر:89)*
سوال:
شوہر کے لئے بیوی کے موبائل میں چہان بین کرنے کا کیا حکم
ہے ؟
*جواب*
شوہر کے لئے بلاوجہ بیوی کے موبائل کی تلاشی لینا اور اس
میں نوک جہوک کرنا جائز نہیں ہے اس لئے کہ یہ
بلاوجہ ایک قسم کی جاسوسی ہے اور قران میں جاسوسی سے منع کیا گیا ہے ارشاد باری
تعالی ہے"ولا تجسسوا ولايغتب بعضكم بعضا"اور
جاسوسی نہ کرو 'غیبت سے پرہیز کرو .نیزاس سے میاں بیوی کے تعلقات خراب ہوتے ہیں اورنوبت
آپسی اختلافات اورنزاع تک پہنچ جاتی ہے۔االبتہ اگر قرائن سے بیوی کا کردار مشکوک معلوم
ہو تو اصلاح کی غرض سے اس کے موبائل اور دیگر معاملات کے بارے میں معلومات حاصل کرنا
جائز ہوگا .
علامہ رملی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ولیس لاحدالبحث والتجسس ۔نعم ان غلب علی ظنہ وقوع معصیۃ ولوبقرینۃ ظاھرۃ کاخبارثقۃ
جازلہ بل وجب علیہ التجسس(1)
1)نھایۃ المحتاج:8/49
حاشیۃ الجمل:183/5
تحفۃ المحتاج:219/9
*اجابہ*: مولوی سعودندوی (کنڈلور)
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment