منیٰ میں ایام تشریق کی مکمل راتیں گذارنا واجب ہے یا رات کاکچھ حصہ بھی گزاردے تومبیت منی کاوجوب ساقط ہوگا؟؟
*(سوال نمبر:70)*
سوال
منیٰ میں ایام تشریق کی مکمل راتیں گذارنا واجب ہے یا رات کاکچھ
حصہ بھی گزاردے تومبیت منی کاوجوب ساقط ہوگا؟؟
*جواب*
ایام تشریق یعنی گیارہ (11) بارہ (12) تیرہ (13) ذی الحجہ
کی تینوں راتوں کا اکثر حصہ (اور اکثر حصہ سے مراد نصف سے زیادہ ہے اگرچہ زیادتی ایک لحظہ ہی کیوں ہو) منیٰ کے میدان میں گذارنا واجب ہے لہذا اگر کوئی نصف سے ایک لحظہ بھی
زائد لحظہ منی میں گذارا ہو تو مبیت منی کا وجوب ساقط ہوجائے گا.اوراس مقدارسے کم وقت
گذارنے والے پردم واجب ہوگا۔
وَالْأَكْمَلُ أَنْ يَبِيتَ بِهَا كُلَّ اللَّيْلِ وَفِي
قَدْرِ الْوَاجِبِ قَوْلَانِ حَكَاهُمَا صَاحِبُ التَّقْرِيبِ وَالشَّيْخُ أَبُو مُحَمَّدٍ
الْجُوَيْنِيُّ وَإِمَامُ الْحَرَمَيْنِ وَمُتَابِعُوهُ (أَصَحُّهُمَا) مُعْظَمُ اللَّيْلِ
(وَالثَّانِي) الْمُعْتَبَرُ أَنْ يَكُونَ حَاضِرًا بِهَا عِنْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ
الثَّانِي (المجموع 8/247)
أَيْ مُعْظَمَهَا)
هَذَا يَتَحَقَّقُ بِزِيَادَةٍ عَلَى النِّصْفِ وَلَوْ بِلَحْظَةٍ. (حواشي الشروانى
مع تحفة المحتاج 3/١٢٥)
🖌 *اجابہ*: مفتی فواد پٹیل، مفتی محمد اسجد ملپا، مفتی خالد خان
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment