سلس البول کا اپنی شرمگاہ پر کونڈم کا استعمال کرنا
*(سوال
:27)*
سوال :
اگر کسی آدمی کو سلس البول کا مرض لاحق ہو تو کیا ایسا مریض اپنی شرمگاہ پر
کونڈم استعمال کر سکتا ہے تا کہ پیشاب کے قطرے کپڑے پر نہ لگ سکے اس لئے کہ ہر بار
کپڑے بدلی کرنا دشوار ہو جاتا ہے
*جواب* :
اگر کسی سلس البول کے مریض کو بار بار پیشاب کے قطرے کپڑے پر گرنے کی وجہ سے
کپڑے تبدیل کرنے میں مشقت ہو رہی ہو تو اسے
پیشاب کے قطرے روکنے کے لئے استحاضہ کی طرح لنگوٹ اور کپڑے کا ٹکڑا وغیرہ باندھ
کر نماز پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے اور چونکہ یہاں پر کنڈوم کے استعمال کا مقصد بھی
پیشاب کے قطرے کو روکنا ہے اس لئے اس کی گنجائش ہے جبکہ وہ پاک ہو-
يجب
على المستحاضة ـ إذا أرادت أن تصلي ـ: أن تغسل فرجها، وتحتشي؛ لترد الدم...وإن لم ينقطع
بذلك.. (تلجَمت) : وهو أن تأخذ قطنةً أو خرقةً وتسدَ بها فرجها، وتأخذ خرقةً مشقوقة
الطرفين فتدخلها بين فخذيها، وتشدها على تلك القطنة، وتخرج أحد طرفيها إلى بطنها، والآخر
إلى صلبها، ثم تشدَ أحد الطرفين بالآخر إلى خاصرتها اليمنى، وأحد الطرفين المشقوقين
بالآخر إلى خاصرتها اليسرى(١)
ومن به سلس البول والمذي.. حكمه حكم المستحاضة في الشد،
والوضوء لكل صلاة؛ لأن ذلك من نواقض الوضوء، فهو كالاستحاضة(٢)
(١) البيان ٥١٩/١
(٢ )البيان ٥٢٤/١
🖌 *اجابہ*: مولوی خالدخان
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment