جس بات روم میں پیشاب کیا جاتا ہو وہاں قرآن کی تلاوت کرنا کیسا ہے۔ نیز غسل کے وقت بسم اللہ پڑھنا کیسا ہے؟
*(سوال نمبر:99)*
جس بات روم میں پیشاب کیا جاتا ہو وہاں قرآن کی تلاوت کرنا
کیسا ہے۔ نیز غسل کے وقت بسم اللہ پڑھنا کیسا ہے؟
*جواب*
جس بات روم میں پیشاب کیا
جاتا ہو وہاں قرآن کی تلاوت کرنا جائز نہیں اس لئے کہ وہ جگہ اس کے لائق نہیں ہے .
البتہ اگر کوئی شخص دل میں قرآن کی تلاوت کرے تو کوئی حرج نہیں جبکہ زبان سے اس کا
تلفظ نہ کیا ہو. ورنہ اس کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ بات روم سے نکلنے کا انتظار کرے اس
کے برعکس بات روم ایسا ہو کہ اس میں پیشاب پاخانہ نہ کیا جاتا ہو تو اس میں تلاوت قرآن
جائز ہے. اسی طرح غسل کے وقت بسم اللہ پڑھنا بھی جائز ہے خواہ وہ غسل جنابت ہی کیوں
نہ ہو.
السابعة) لا يكره للمحدث قراءة القرآن في
الحمام نقله صاحبا العدة والبيان وغيرهما من أصحابنا وبه قال محمد بن الحسن ونقله ابن
المنذر عن إبراهيم النخعي ومالك ونقل عن أبي وائل
نقل المصنف في التبيان، عدم الكراهة عن الاصحاب مطلقا فقال
قال اصحابنا لا تكره يعني القراءة في الحمام ١
ولا تكره قراءة القرآن في الحمام٢
هل يجوز ذكر الله تعالى في الحمام ؟.
فأجاب :
لا ينبغي للإنسان أن يذكر ربه عز وجل في داخل الحمام ، لأن
المكان غير لائق لذلك ، وإن ذكره بقلبه فلا حرج عليه ، بدون أن يتلفظ بلسانه ، وإلا
فالأولى أن لا ينطق به بلسانه في هذا الموضع وينتظر أن يخرج منه .
أما إذا كان مكان الوضوء خارج محل قضاء الحاجة فلا حرج أن
يذكر الله فيه .٣
١) المجموع. ١٦٣/٢
٢) البيان. ٢٥/١
٣) مجموع الفتاوى ابن عثيمين. ١٠٩/١١
*. روضة الطالبين. ٨٦/١
*. النجم الوهاج. ٩ / ٣٠٢
*اجابہ*: مفتی حسنین کھوت
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment