ارتداد کی وجہ سے فسخ نکاح اور عدت گذارنے کا مسئلہ
(سوال نمبر:69)*
سوال:
کسی عورت کا مرتد کی وجہ سے نکاح فسخ ہواہے اس کے پانچ مہینے
بعد وہ پھر اسلام لائی تو کیا اب اس کو عدت
گذار نے ہو گی یا ما قبل کے پانچ مہینے میں حالت ارتداد میں عدت گذر گئی؟
*جواب*
کسی عورت کا ارتداد کی وجہ سے نکاح فسخ ہواہے اس
کے پانچ مہینے کے بعد وہ پھر اسلام لائی تواب
اس عورت کو دوبارہ عدت گذارنے کی ضرورت نہیں ماقبل میں جو عدت گزر گئی تھی وہی
کافی ہے -
(ﻣﺴﺄﻟﺔ) ﺇﺫا اﺭﺗﺪ ﺃﺣﺪ اﻟﺰﻭﺟﻴﻦ ﻓﺈﻥ ﻛﺎﻥ ﻗﺒﻞ اﻟﺪﺧﻮﻝ
اﻧﻔﺴﺦ ﻧﻜﺎﺣﻬﻤﺎ ........ ﻭاﻥ اﺭﺗﺪ ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ ﺑﻌﺪ اﻟﺪﺧﻮﻝ ﻭﻗﻒ اﻟﻨﻜﺎﺡ ﻋﻠﻰ اﻧﻘﻀﺎء ﻋﺪﺓ اﻟﺰﻭﺟﻪ،
ﻓﺈﻥ ﺭﺟﻊ اﻟﻤﺮﺗﺪ ﻣﻨﻬﻤﺎ ﻗﺒﻞ اﻧﻘﻀﺎء ﻋﺪﺗﻬﺎ ﻓﻬﻤﺎ ﻋﻠﻰ اﻟﻨﻜﺎﺡ. ﻭاﻥ اﻧﻘﻀﺖ ﻋﺪﺗﻬﺎ ﻗﺒﻞ ﺃﻥ ﻳﺴﻠﻢ
اﻟﻤﺮﺗﺪ ﻣﻨﻬﻤﺎ ﺑﺎﻧﺖ ﻣﻨﻪ ﺑﺮﺩﺓ اﻟﻤﺮﺗﺪ ﻣﻨﻬﻤﺎ،
(المجموع شرح المهذب ج.. 16/.316)
قال الشافعية رحمه الله إذاإرتد احد الزوجين المسلمين
فلا تقع الفرقة بينهما حتي تمضي عدة الزوجة قبل أن يتوب ويرجع إلي الإسلام فإذاإنقضت بانت منه وبينونتها منه فسخ لاطلاق وإن عاد إلي الإسلام قبل
إنقضائها فهي إمرأته. (الموسو عة الفقهية الكويتية 22/ 198)
*اجابہ*: مفتی محسن واڑیکر۔مولوی زیدمنی پوری
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment