اوجھڑی کھانا جائز ہے یا نہیں؟



*(سوال نمبر:84)*
 سوال:
 اوجھڑی کھانا جائز ہے یا نہیں؟
*جواب*
اوجھڑی کھانا جائز ہے اسلئے کہ قرآن وحدیث میں  اس کی کوئی ممانعت وارد نہیں ہے اور اسی طرح فقہاء نےقسم کے جومسائل بیان کئے ہیں ان میں کھائی جانے والی چیزوں میں اوجھڑی کاتذکرہ کیاہے۔اس سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اوجھڑی کھانا جائز ہے

فلا يحنث الحالف علي أكل البيض ويحمل اللحم فيمن حلف لايأكله علي لحم نعم وخيل ووحشي وطير مأكولين فيحنث بالأكل من مزكاها لا من الميتتة لا علي لحم سمك وجراد ولا شحم بطن وعين وكذا كرش وكبد وطحال وقلب في الاصح فلا يحنث بالاكل منها الحالف(1)

(1)السراج الوهاج  577
منهاج الطالبين  4/  368
تحفة المحتاج  4/  304
النجم الوهاج  10/ 57
🖌 *اجابہ*: مولوی انس کیرلا۔
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan




Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟