نئے گھر میں قرآن پڑھنا اور گھر بھراؤنی کی دعوت کا شرعی حکم
*(سوال نمبر:55)*
سوال:
کسی نے نیا گھر لیا اور اس میں قرآن پڑھواکر لوگوں کو دعوت
دی تو کیا ایسا کرنا شرعا درست ہے؟ اور کیا ایسی دعوت میں شرکت کرسکتے ہیں؟
*جواب*
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناو، شیطان اس گھر سے بھاگتا
ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے (1)لہذا حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ گھروں میں قرآن
کا پڑھنا خیروبرکت کا باعث ہے لیکن قرآن کے پڑھنے کو کسی موقع کے ساتھ خاص کرنا کسی
اصل سے ثابت نہیں ہے لہذا علماء کرام نے گھر بھرنی وغیرہ کے وقت قرآن خوانی کرنےکو بدعت کہا ہے ہاں البتہ اگر کوئی
انفرادی طور پر پڑھے یا گھر والے قرآن پڑھے تو حرج نہیں ہے اور گھر بھرنی کے وقت دعوت
کرنا مستحب ہے لہذا اگر کوئی ایسے موقع پر
قرآن خوانی میں شرکت نہ کرتے ہوئے صرف دعوت میں شرکت کرے تو کوئی حرج نہیں.
الطعام
الذى يدعى إليه الناس ستة: الوليمة للعرس، والخرس للولادة، والاعذار للختان، والوكيرة
للبناء، والنقيعة لقدوم المسافر، والمأدبة لغير سبب ويستحب ما سوى الوليمة لما فيها
من إظهار نعم الله والشكر عليها، واكتساب الاجر والمحبة، ولا تجب، لان الايجاب بالشرع
ولم يرد الشرع بإيجابه. (2)
س٢: ما حكم قراءة القرآن في جماعة عند الدخول إلى البيت الجديد، أو لرفع ضر
أو هم، وذلك أيضا في جماعة؟
ج٢: المستحب عند دخول البيت أن يقول: بسم الله ويقرأ
سورة البقرة؛ لما في الصحيح: «إن الشيطان يفر من البيت الذي تقرأ فيه سورة البقرة
(١) » ، لكنها لا تقرأ بصوت جماعي؛ لأن ذلك بدعة، وأما قراءة القرآن في البيوت على
الصفة المذكورة فلا نعلم له أصلا.(3)
لا
يشرع عند الانتقال إلى مسكن جديد الأذان في أركانه الأربعة ، أو في أي ركن منها ، ولا
قراءة سور مخصوصة ، أو تلاوة أوراد معينة ، حيث لا دليل على شيء من ذلك في السنة
.(4)
(1)مسلم:780
(2)المجموع 392/16
(3)فتاوى اللجنة الدائمة 189/2
(4)www.islam A. Info
🖌 *اجابہ*: مفتی حسنین کھوت.مفتی مزمل دیوڑے
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment