ایک شخص ہے فی الحال اس کے پاس کوئی کام نہیں، تو اس کو مطلقا زکاة دی جاسکتی ہے؟


   *(سوال نمبر:41)*
  سوال:
  ایک شخص ہے فی الحال اس کے پاس کوئی کام نہیں، تو اس کو مطلقا زکاة دی جاسکتی ہے؟؟؟
یا اس کے گھر وغیرہ کی قیمت کو سامنے رکھا جائیگا، اگر نصاب سے کم ہو تو زکاة دی جائے؟
*جواب*
مستحقین زکوۃ میں وہ شخص بھی داخل ہے جس کے پاس بقدر کفاف نہ مال ہو اور نہ اس کے مناسب  کمائی کا کوئی ایسا ذریعہ ہو جو اس کی ضروریات زندگی کی تکمیل کے لئے کافی ہو۔ لہذا وہ شخص جس کے پاس فی الحال کمائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے اور نہ اس کے پاس مال ہے تو ایسے شخص کو زکوۃ دی جاسکتی ہے۔اس کے پاس موجود بقدر ضرورت گھر وغیرہ اس کو زکوۃ دینے کے لئے مانع نہیں ہے.

(ﺃﻣﺎ) اﻷﺣﻜﺎﻡ ﻓﻔﻴﻪ ﻣﺴﺎﺋﻞ (ﺇﺣﺪاﻫﺎ) ﻓﻲ ﺣﻘﻴﻘﺔ اﻟﻔﻘﻴﺮ اﻟﺬﻱ ﻳﺴﺘﺤﻖ ﺳﻬﻤﺎ ﻓﻲ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻗﺎﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ ﻭاﻷﺻﺤﺎﺏ ﻫﻮ اﻟﺬﻱ ﻻ ﻳﻘﺪﺭ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﻳﻘﻊ ﻣﻮﻗﻌﺎ ﻣﻦ ﻛﻔﺎﻳﺘﻪ ﻻ ﺑﻤﺎﻝ ﻭﻻ ﺑﻜﺴﺐ ﻭﺷﺮﺣﻪ اﻷﺻﺤﺎﺏ ﻓﻘﺎﻟﻮا ﻫﻮ ﻣﻦ ﻻ ﻣﺎﻝ ﻟﻪ ﻭﻻ ﻛﺴﺐ ﺃﺻﻼ ﺃﻭﻟﻪ ﻣﺎﻻ ﻳﻘﻊ ﻣﻮﻗﻌﺎ ﻣﻦ ﻛﻔﺎﻳﺘﻪ ﻓﺈﻥ ﻟﻢ ﻳﻤﻠﻚ ﺇﻻ ﺷﻴﺌﺎ ﻳﺴﻴﺮا ﺑﺎﻟﻨﺴﺒﺔ ﺇﻟﻰ ﺣﺎﺟﺘﻪ ﺑﺄﻥ ﻛﺎﻥ ﻳﺤﺘﺎﺝ ﻛﻞ ﻳﻮﻡ ﺇﻟﻰ ﻋﺸﺮﺓ ﺩﺭاﻫﻢ ﻭﻫﻮ ﻳﻤﻠﻚ ﺩﺭﻫﻤﻴﻦ ﺃﻭ ﺛﻼﺛﺔ
ﻛﻞ ﻳﻮﻡ ﻓﻬﻮ ﻓﻘﻴﺮ ﻷﻥ ﻫﺬا اﻟﻘﺪﺭ ﻻ ﻳﻘﻊ ﻣﻮﻗﻌﺎ ﻣﻦ اﻟﻜﻔﺎﻳﺔ ﻗﺎﻝ اﻟﺒﻐﻮﻱ ﻭﺁﺧﺮﻭﻥ ﻭﻟﻮ ﻛﺎﻥ ﻟﻪ ﺩاﺭ ﻳﺴﻜﻨﻬﺎ ﺃﻭ ﺛﻮﺏ ﻳﻠﺒﺴﻪ ﻣﺘﺠﻤﻼ ﺑﻪ ﻓﻬﻮ ﻓﻘﻴﺮ ﻭﻻ ﻳﻤﻨﻊ ﺫﻟﻚ ﻓﻘﺮﻩ ﻟﻀﺮﻭﺭﺗﻪ ﺇﻟﻴﻪ ﻗﺎﻝ اﻟﺮاﻓﻌﻲ ﻭﻟﻢ ﻳﺘﻌﺮﺿﻮا ﻟﻌﺒﺪﻩ اﻟﺬﻱ ﻳﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻴﻪ ﻟﻠﺨﺪﻣﺔ ﻭﻫﻮ ﻓﻲ ﺳﺎﺋﺮ اﻷﺻﻮﻝ ﻣﻠﺤﻖ ﺑﺎﻝﻣﺴﻜﻦ ﻗﻠﺖ ﻗﺪ ﺻﺮﺡ اﺑﻦ ﻛﺞ ﻓﻲ ﻛﺘﺎﺑﻪ اﻟﺘﺠﺮﻳﺪ ﺑﺄﻥ اﻟﻌﺒﺪ اﻟﺬﻱ ﻳﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻴﻪ ﻟﻠﺨﺪﻣﺔ ﻛﺎﻝﻣﺴﻜﻦ ﻭﺃﻧﻬﻤﺎ ﻻ ﻳﻤﻨﻌﺎﻥ ﺃﺧﺬﻩ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻷﻧﻬﻤﺎ ﻣﻤﺎ ﻳﺤﺘﺎﺝ ﺇﻟﻴﻪ ﻛﺜﻴﺎﺑﻪ
(المجموع: 6/190)
🖌 *اجابہ*: مفتی مزمل دیوڑے ۔مفتی محمد اسجد ملپا
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟