جائفل (جوزة الطیب) کے کھانے کا کیا حکم ہے؟
*(سوال نمبر:106)*
سوال
جائفل (جوزة الطیب) کے کھانے کا کیا حکم ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق
جائفل اور جاوترى كا پودا قديم زمانے سے معروف ہے، اس كا پھل ايك قسم كے مسالحہ جات كے طور پر استعمال كيا جاتا
تھا، جو كھانے كوخوش ذائقہ بناتا اور اسے اچھى خوشبو ديتا ہے، اور يہ پھل عربى ميں جوزۃ
الطيب اور اردو ميں جائفل يا جائپھل كے نام سے پہچانا جاتا ہے، اور اسے جوزبوا بھى
كہتے ہيں، اس پھل کے اندر نشہ بھی ہوتا، البتہ جوزۃ الطيب يا جائفل كى قليل سى مقدار جو نہ تو عقل ميں فتور كا باعث بنتى ہو اور نہ ہى نشہ كا باعث ہو، لہذاكھانے ميں بطور
مسالحہ اور ذائقہ اور خوشبو كے استعمال كرنا جائز ہے ۔
امام رملی فرماتے ہیں :
(ﺳﺌﻞ) ﻋﻦ ﺃﻛﻞ ﺟﻮﺯ ﺍﻟﻄﻴﺐ
ﻫﻞ ﻳﺠﻮﺯ ﺃﻭ ﻟﺎ?
(ﻓﺄﺟﺎﺏ) ﻧﻌﻢ ﻳﺠﻮﺯ ﺇﻥ ﻙﺍﻥ
ﻗﻠﻴﻠﺎ, ﻭﻳﺤﺮﻡ ﺇﻥ ﻙﺍﻥ ﻛﺜﻴﺮﺍ.(1)
علامة وھبة الزهيلي فرماتے ہیں :
ولا حرج في استعمال جوزة الطیب ونحوها في اصلاح نكهة الطعام
بمقادير قليلة لا تؤدي إلى التفقير أو التخدير (2)
-------------
(1) فتاوي رملي ٧١/٤
(2) الفقه الإسلامي والادلة ٨٣٠/٩
*) فتاوي يسألونك ٢٦٣/٥
🖌 *اجابہ*: مفتی اسجدملپا۔مولوی وسیم ندوی (کنڈلور)
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment