سجدہ تلاوت عصر کے بعد کر سکتے ہیں یا نہیں؟
*(سوال
نمبر:100)*
سوال: سجدہ تلاوت عصر کے بعد کر سکتے ہیں یا نہیں؟
*جواب*
عصر کے بعد کا وقت مکروہ اوقات
میں سے ہے اور اس وقت میں جن عبادتوں کاکرنامکروہ
ہے ان میں سجدہ تلاوت شامل نہیں ہے۔لہذاسجدہ تلاوت عصربعدجائزہے۔البتہ عصربعدسجدہ تلاوت
کرنے کی نیت ہی سے آیت سجدہ کی تلاوت کرنا درست نہیں ہے۔
أما الفرض والنفل المؤقت أو ذو السبب المتقدم فلا يكره شيء
منها في هذه الأوقات نعم إن تحرى إيقاع شيء من ذلك في هذه الأوقات بأن قصد إيقاعه فيه
من حيث إنه وقت كراهة حرم ولا ينعقد ومثل ذلك سجدة التلاوة والشكر.. ١
و منها سجود التلاوة فلا يكره في هذه الأوقات لأن سبب سجدة
التلاوة قراءة القرآن وهي مقارنة لهذه الاوقات ٢
فله في هذه الأوقات قضاء الفرائض...... و سجود التلاوة و الشكر ٣
فإنه يجوز في هذه الأوقات قضاء الفرائض....... و تجوز صلاة
الجنازة و سجود التلاوة ٤
..................................................................
١) نهاية
الزين.
١١٦/١
٢). فتح العزيز. ١١٠/٣
٣) المجموع . ١٧٠/٤
٤) روضة الطالبين. ١٩٣/١
*اجابہ*: مفتی حسنین کھوت
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment