خرگوش کھانا شرعاً جائز ہے


خرگوش کھانا شرعاً جائز ہے

سوال نمبر(4):
*سوال*:
 خرگوش کھانے کا شرعاً کیا حکم ہے اور اس کی دلیل کیا ہے؟
(سوال بذریعہ مولوی اسجد ملپا)
*جواب*:
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے مر ظھران نامی جگہ ایک خرگوش پایا تو لوگوں نے اس کو پکڑ لیا پھر میں اس کو ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا، تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اس کو ذبح کیا اور اس کی ران نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں بھیج دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اسکو قبول فرمایا۔(بخاری:۵۵۳۵)
    اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے خرگوش کے گوشت کو تناول فرمایا اس وجہ سے فقھاء کرام رحمہم اللہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ خرگوش کھانا جائز ہے.
علامہ ابن حجر عسقلانیؒ  فرماتے ہیں :
 وفي الحديث جواز أكل الأرنب۔ (فتح الباري ٦٦٢/٦)
 ويحل أكل الأرنب لقوله تعالى: {ويحل لهم الطيبات والأرنب من الطيبات (المھذب ٤٥٠/١)
الأرنب وهو حلال عندنا (المجموع :١٧/٩، مغني المحتاج:١٤٨/٦، الإقناع :٥٨٣/٢)
 *اجابہ مفتی اسجد کردمے مولوی طاہر شیخ
آوڈیو:

-------------------------
*
منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*         زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*            مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟