میت کو فریزر میں رکھنے کا شرعی حکم؟
*(سوال:۱۲)*
سوال:
آج کل میت کو فریزر میں رکھا جاتا ہے اور اس میں عموم ہوتا جا رہا ہے بلکہ بعض جماعت المسلمین نے فریزر خرید لیا ہے جو مختلف مقامات پر لیجایا جاتا ہے اس سلسلے میں شرعاً کیا حکم ہے؟
*جواب* :
حضرت حصین بن وحوح کہتے ہیں کہ حضرت طلحہ بن براء بیمار ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا خیال ہے کہ طلحہ وفات پانے والے ہیں تو تم مجھے ان کے انتقال کی خبر دینا اور تجہیز وتکفین میں جلدی کرنا کیونکہ کسی مسلمان کی لاش اس کے گھر والوں میں روکے رکھنا مناسب نہیں ہے(1)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنازہ جلدی لے کر چلا کرو اگر وہ نیک ہے تو تم بھلائی کی طرف اسے بڑھاتے ہو اور اگر اس کے علاوہ ہے تو تم برائی کو اپنی گردن سے اتارتے ہوں.(2)
علامہ وھبة الزحيليؒ فرماتے ہیں کہ جنازہ کے لیے اتنی مقدار میں لوگوں کا انتظار کرنا کہ ایک جماعت قائم ہںوسکے اس میں کوئی حرج نہیں ہے اس لیے کہ نماز میں میت کے لیے دعا ہے. (3)
علامہ خطیب شربینیؒ فرماتے ہںں کہ نماز سے پہلے تھوڑی مقدار حاضر ہوجائے یاجب میت پر ایسا شخص نماز پڑھے جس کے ذریعے فرض ساقط ہوتا ہںو تو دوسری جماعت کا انتظار نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ میت کو جلدی دفن کرنا میت کا حق ہے.(4)
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ "الام" میں فرماتے ہیں کہ میت کے دفن کرنے میں کسی غائب شخص کا انتظار نہیں کیا جائے. (5)
نیزحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میت کی ہڈی توڑنا زندے کے ہڈی توڑنے کی طرح ہے. (6)
اس حدیث کے ضمن میں امام طیبی فرماتے ہیں کہ اس میں اشارہ ہںے کہ میت کی تحقیر نہ کی جائے جیسا کہ زندے کی نہیں کی جاتی، اور ابن ملک فرماتے ہیں کہ اس میں میت کو تکلیف پہچانے کی طرف اشارہ ہے. (7)
اس حدیث سے معلوم ہںوتا ہںے کہ میت کو بھی زندوں کی طرح تکلیف ہوتی ہے لہذا آج کل میت کو دو تین دن فریزر میں رکھا جاتاہے تاکہ بیرون ملک سے آنے والے میت کادیدار کرسکے. اس سے میت کو تکلیف پہچانا لازم آتا ہے اس لیے اس طرح فریزر میں رکھنا مذموم اورناقابل پسندعمل ہے. اس کا رواج دینے میں خودمیت کوبھی تکلیف ہے اورساتھ میں دیگرلوگوں کوبھی انتظارکی تکلیف میں مبتلاکرناہے اس لیے احتیاط کرناچاہیے. البتہ اگر کوئی شدید عذر ہو مثلاً میت کی شناخت نہیں ہںورہی ہںو یا پوسٹ مارٹم وغیرہ کی ضرورت ہںو تو اس صورت میں فریزر میں رکھنے میں حرج نہیں ہے.
قال وهبة الزحيلى :ولا بأس أن ينتظر بالجنازة مقدار ما يجتمع لها جماعة، للدعاء له في الصلاة. (3)
تنبيه :شمل كلامه صورتين :إحداهما إذا حضر جمع قليل قبل الصلاة لا ينتظر غيرهم..... والصورة الثانية :إذا صلى عليه من يسقط به الفرض لا تنتظر جماعة أخرى... لأن الإسراع بالدفن حق للميت. (4)
قال الشافعي :ولا ينتظر بدفن الميت غائب من كان الغائب. (5)
عن عائشۃ رض ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: کسرعظم المیت ککسرہ حیا(6)
قال الطيبي فيه إشارة إلى أنه لا يهان الميت كما لا يهان الحي، وقال ابن الملك :وإلى أن الميت يتألم. (7)
وضع الجنازة في الثلاجة
إذا دعت الحاجة لذلك فلا بأس حسب التعليمات المتبعة. (8)
(1)ابوداؤد :3159
(2)بخارى:1315
(3)موسوعة الفقه الإسلامي 402/2
(4)مغنى المحتاج61/2
(5)الام623/2
(6)ابوداؤد :3207
(7)بذل المجھود 102/7
(8)الفتاوی المهمة 434
*اجابہ*
🖌 *اجابہ : مولوی حسنین کھوت
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*
زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*
مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment