شرمگاہ میں دوائی داخل کرنے سے غسل
کیا شرمگاہ میں دوائی داخل کرنے پر غسل واجب ہوگا
سوال نمبر(۲):
*سوال:*
اگرکسی عورت کوطبیب بطورعلاج شرمگاہ میں کسی قسم کی گولی یادوائی رکھنے کے لئے کہے توکیا اس عورت پردوائی رکھنے سے غسل واجب ہوگا؟
(سوال بذریعہ مفتی خالدجھٹام)
*جواب*:
وجوب غسل کے اسباب میں سے ایک جماع اور جنابت بھی ہے.اورحدیث کی روشنی میں غسل جنابت کے وجوب کے لئے مردکی شرمگاہ ( حشفہ کے بقدر) کاعورت کی شرمگاہ میں دخول شرط ہے.اس کے علاوہ کسی اورچیزمثلاانگلی یااورکوئی چیزعورت کے شرمگاہ میں داخل ہونے پرغسل واجب نہیں ہوتا.اس اعتبارسے اگرکوئی عورت بطورعلاج اپنی شرمگاہ میں کوئی گولی یادوا داخل کرتی ہے توغسل واجب نہیں ہوگا.
*علامہ خطیب شربینی رح فرماتے ہیں:*
باب الغسل: موجبہ خمسۃ امور...وجنابۃ بدخول حشفۃ.... اوقدرھا ...فرجا( مغنی المحتاج:۱/۱۱۹)
ویجلد وجوباامام ...حرامکلفازنی بایلاج حشفۃ ...فخرج ایلاج غیرالحشفۃ کاصبعہ ...فلاحدفی جمیع ماذکرلانہ لایسمی زنا( اعانۃ الطالبین:۴/۲۱۸)
وایلاج السلعۃ لایوجب الغسل علی المولج ولاعلی المولج فیہ( اعانۃ الطالبین:۱/۱۴۱)
أن الأصبع ليست آلة للجماع،ولهذا لو أولجها في إمرأة حية لم يجب الغسل،بخلاف الذكر.
(1)المجموع 156/2
اجابہ *:مفتی زبیرپورکر.مولوی حسنین کھوت*
آوڈیو
-------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
آوڈیو
-------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment