اگر اولاد کی پیدا ئش سے اولاد اور ماں کی جان کو خطرہ ہو اور ڈاکٹر یہ کہے کہ آپ اپنی ہونے والی اولاد کو گو لی کے ذریعہ پگھلا دو یا انجکشن کے ذریعےختم کر دو تو کیا اس طرح کرنا جا ئز ہے ؟


*(سوال نمبر:۱۳)*
سوال:
اگر اولاد کی پیدا ئش سے اولاد اور ماں کی جان کو خطرہ ہو اور ڈاکٹر یہ کہے کہ آپ اپنی ہونے والی اولاد کو گو لی کے ذریعہ پگھلا دو یا انجکشن کے ذریعےختم کر دو تو کیا اس طرح کرنا جا ئز ہے ؟
(سوال :بذریعہ مفتی خالد جھٹام)
*جواب*
اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے کہ تم اپنی اولاد کو فقر وفاقہ کے خوف سے قتل نہ کرو(1)
    حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم-جو کہ صادق اور مصدوق ہے - نے فرمایا: تم میں سے ہر آدمی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفے کی صورت میں رہتا ہے پھر چالیس دن جمے ہںوئے خون کی صورت میں رہتا ہے پھر اتنے ہی دن گوشت کے لوتھڑے کی صورت میں رہتا ہے پھر فرشتے کو بھیجا جاتا ہے وہ اس میں روح پھونکتا ہے(2)
علامہ نووی رح فرماتے ہیں :علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ روح چار مہینے کے بعد پھونکی جاتی ہے.(3)
    علامہ کرابیسی رح فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبکر بن ابو سعید الفراتی سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو اپنی باندی کو ایسا مشروب پلائے جس سے اس کا حمل ساقط ہوجائے تو ابوبکر نے فرمایا کہ جب حمل نطفہ یا جمے ہںوئے خون کی صورت میں ہںو تو اس کو گرا سکتے ہے (4)
              مذکورہ تفصیل سے معلوم ہںوتا ہے  عام حالات میں حمل ٹہرنے کے بعدبغیرکسی عذرکے حمل ساقط نہیں کراناچاہیے.اس لیے کہ بغیرکسی عذرکے حمل ساقط کرانادرست نہیں. البتہ اگرکوئی عذرہوتو عذر کی وجہ سے روح پھونکنے سے پہلے حمل گرا سکتے ہیں لیکن اس طرح کرنا مکروہ ہے. اور روح چار مہینے کے بعد پھونکی جاتی ہے اور روح پھونکنے کے بعد حمل گرانا حرام ہے مگر یہ کہ بھروسے مند ڈاکٹروں کے ذریعہ یہ بات سامنے آئے کہ حمل باقی رکھنے کی صورت میں ماں کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے اورعلاج ومعالجہ کی کسی بھی صورت میں ماں کابچناممکن نہیں ہے تو اس صورت میں گولی یا انجکشن کے ذریعے حمل پگھلا کر ختم کرنے کی گنجائش ہے.
   
 واتفق العلماء على أن نفخ الروح لا يكون إلا بعد أربعة أشهر. (3)
      قال الكرابيسي سألت أبا بكر بن أبي سعيد الفراتي عن رجل سقى جارية شرابا لتسقط ولدها فقال ما دامت نطفة أو علقة فواسع اي جائز له ذلك...... والراجح تحريمه بعد نفخ الروح فيه مطلقاً وجوازه قبله. (4)
       ويحرم عليها كغيرها إسقاط ما نفخت فيه الروح ويكره قبله. (5)
    وأما إجهاض هذا الجنين بعد أن صار عمره خمسة أشهر فهو من المحرمات لأن الأصل هو تحريم الإجهاض بعد مضى مئة و عشرين يوما على الحمل باتفاق أهل العلم..... ويستثنى من هذا الحكم حالة واحدة فقط، وهي إذا ثبت بتقرير لجنة من الأطباء الثقات أهل الاختصاص أن?  إستمرار الحمل يشكل خطراً مؤكداً على حياة الأم فحينئذ يجوز إسقاط الحمل. (6 )
    إذا نفخت الروح في الحمل فيحرم إسقاطه، لأنه قتل للنفس المعصومة إلا إذا قرر الأطباء انه لا يعيش إلا أحدهما، فتقدم سلامة الأم. (7 )
(1)سورة الأنعام :151
(2)مسلم:2643
(3)شرح صحيح مسلم 146/6
(4)حاشية الجمل 625/8
(5)حاشيتا القليوبي 4016/5
(6)قرارات المجمع الفقهي الإسلامي ص123
فتاوی یسئلونك 426/10
(7 )الموسوعة الفقهية الكويتية 128/4
🖌 *اجابہ*: مفتی اطہرحدادی،مولوی محمد اسجد ملپا،مولوی حسنین کھوت
------------------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*   
 زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* 
          مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan


Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟