اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کا حکم

اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کا حکمسوال نمبر (۵)

سوال:
اگر اذان شروع ہو جائے اور اس وقت جو حضرات مسجد میں بوقت اذان موجود ہو تو کیا ان حضرات کے لیے مسجد سے باہر نکلنے پر حدیث میں کوئی ممانعت وارد ہے ، سنا ہے کہ اگر ایسا شخص بھی اس وقت موجود ہو جسے دوسری مسجد میں امامت کرنی ہے تو ایسے شخص کے لیے مسجد سے باہر نکلنے کی گنجائش ہے ورنہ نہیں؟
*جواب*:
حضرت ابوشعثاء فرماتے ہیں کہ ہم حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجدمیں بیٹھے ہوئے تھے تومؤذن نے اذان دی توایک شخص مسجد سے کھڑے ہوکر جانے لگے توحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان کی طرف برابر دیکھ رہے تھے جب وہ مسجد سے باہرنکلے تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ اس شخص نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی-(صحیح مسلم:۶۵۵)
اس حدیث کی روشنی میں فقہاء نے اذان کے وقت مسجدمیں موجود لوگوں کے لئے یا مؤذن کے لئے اذان کے بعد مسجد سے باہربغیرکسی ضرورت اوربغیرعذرکے نکلنا مکروہ قراردیاہے۔ اس لئے بغیرکسی عذرکے مسجدسے باہرنہیں نکلنا چاہیے البتہ کوئی ضرورت یا عذر ہومثلاً وضوکرنے کے لئے یا دوبارہ لوٹنے کی نیت سے نکلے تو مسجدسے باہرنکلنے کی گنجائش ہے۔لہذااگراذان کے وقت کوئی ایساشخص مسجدمیں موجودہوجوکسی دوسری مسجدمیں امامت کرتا ہوتواس کے لئے مسجدسے باہرنکلنے کی گنجائش ہے-
امام نوویؒ فرماتے ہیں:
فیہ کراھۃ الخروج من المسجدبعدالاذان حتی یصلی المکتوبۃ(شرح مسلم:۵/۱۵۷)
وﻳﻜﺮﻩ ﺧروج  اﻟﻤؤذن وﻏﻴﺮﻩ ﺑﻌﺪ الأذان ﻣﻦ ﻣﺤﻞ اﻟﺠﻤﺎﻋﺔ ﻗﺒﻞ اﻟﺼلاة إلا لعذر۔(حاشية الجمل :1/307)
 *اجابہ*: مفتی اسجدکردمے.مولوی عاقب کوکاٹے
آوڈیو:
-------------------------
*
منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*         زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*            مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟