درمیان وضوء حدث لاحق ہونے پر وضوء کا حکم


درمیان وضوء حدث لاحق ہونے پر وضوء کا حکم

*سوال نمبر  ( 7) *
*سوال*
 اگرکسی کودرمیان وضوء  حدث لاحق ہو جائے تو کیا اسی وضوء پر بناء کی جائے گی یا از سرنو وضوء کرنا ہوگا ؟
 (سوال بذریعہ مفتی نعمان مقادم)
   *جواب*
درمیان وضوء اگر کسی کو حدث اصغر لاحق ہو جائے تو اسے از سر نو وضوء کرنا ہوگا اسی پر بناء کرنا کافی نہیں ہوگا ۔
     ولو أحدث بعد ما أخذ التراب بطل قصدہ فعلیہ أن یاخذ ثانيا کما لو غسل بعض وجھہ ثم أحدث علیہ إعادة ماغسل ۔( التهذيب 1/356)
 *اجابہ*: مولوی خالدخان
آوڈیو:
-------------------------
*
منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن*         زیر نگرانی 
*
مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی*            مرتب 
*
مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan

Comments

Popular posts from this blog

اگر کسی شخص کی فجر سے پہلے کی سنت نماز چھوٹ جائے تو اسے کب پڑھنا چاہئے؟

حج یا عمرہ کرنے والا صرف بال کٹائے حلق نہ کرائے تو کیا رکن ادا ہوگا؟

لیکوریا سے خارج ہونے والے سفید مادہ سے وضو ٹوٹتا ہے کیا؟