رات کے وقت عقیقہ و قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا حکم
رات کے وقت عقیقہ و قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کا حکم
سوال نمبر (6)
سوال:
رات کے وقت عقیقہ کے جانور کو ذبح کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب :
عقیقہ اورقربانی کے جانورکودن میں سورج طلوع ہونے کے بعد ذبح کرنا افضل اور پسندیدہ ہے۔ اور رات کے وقت ذبح کرنا ناپسند ہے، اس لئے کہ رات میں ذبح صحیح نہ ہونے کاامکان ہے۔ البتہ رات میں اگر روشنی کا انتظام ہو اور دن میں ذبح کرنے میں کوئی عذر ہومثلاً دن میں ذبح کرنے میں کوئی دشواری ہو یا طلوع سے پہلے ہی گوشت مطلوب ہو وغیرہ تو رات میں ذبح کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
واتقفوا على أنه يجوز ذبحها في هذا الزمان ليلاً و نهاراً لكن يكره عندنا الذبح ليلاً في غير الأضحية وفي الأضحية أشد كراهة. (1)
قال الشافعي رحمه الله :فإذا ذبح ليلاً أجزأه، قال الماوردي :ذبح الأضحية ليلاً مكروه... ولأنه ربما أخطأ محل ذبحها بظلمة الليل. (2)
ويكره الذبح ليلاً إلا الحاجة كاشتغاله نهاراً بما يمنعه من التضحية. (3)
ويستحب أن تكون الشاتان متساويتين وان يكون ذبح العقيقة في صدر النهار. (4)
(1)المجموع281/8
(2)الحاوي الكبير 114/15
(3)حاشية الجمل 213/8
(4)روضة الطالين 500/2
-------------------------
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن* زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
*منجانب بحث و نظر فقہ شافعی کوکن* زیر نگرانی
*مفتی رفیق محمد شفیع پورکر مدنی* مرتب
*مفتی فیاض محمودبرمارے حسینی*
ٹیلیگرام پر جائن کریں
https://t.me/bahsonazarfiqhashafaikokan
Comments
Post a Comment